Urdu Tipsصحت

مہنگے شیمپو کا استعمال چھوڑیں اور گھر میں موجود ان اشیاء کو بطور شیمپو استعمال کرواور بالوں کو صحت مند رکھیں

ہمارےسر کی کھوپڑی پر قدرتی طور پر چکنائی موجود ہوتی ہے جو ہمارے بالوں کو صحت مند بناتی ہے ،بالوں کی صفائی کے لیئے استعمال کئے جانے والے شیمپو میں ڈیٹرجنٹ کی بہت زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے جو ہمارے سر میں موجود اس قدرتی چکنائی کو بھی دھوڈالتا ہے. اس کے علاوہ بازاری شیمپو میں سلفائیٹ اور معدنی تیل بھی شامل کیے جاتے ہیں جو کہ بالوں کی صحت کے لئے خطرناک ہوتے ہیں اس کے علاوہ شیمپو کے ساتھ فاضل چکنائی بھی سر کی کھوپڑی پر جم جاتی ہے

لہٰذا بالوں کو ہر روز شیمپو کرنا فائدے کے بجائے نقصان کا سبب ہوسکتا ہے .آج کی اس تحریر میں بالوں کو شیمپو کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے کچھ قدرتی چیزوں کو شامل کیا گیا ہے جن سے بال بھی صحت مند اور صاف رہتے ہیں اور خرچے سے بھی بچا جاسکتا ہے ۔ایک چمچ کھانے کے سوڈے کو ایک پیالی پانی میں ملا لیں رد خلیات کو نکال کر صاف کردے گا اور اس کےکوئی مضر اثرات بھی نہیں ہوں گے اس کے علاوہ یہ کھوپڑی پر جمی ہوئی فاضل چکنائی کی تہہ کو بھی اتار دیتا ہےاس کے بعد ایک چمچ سیب کے سرکے کو ایک پیالی پانی میں اچھی طرح ملا لیں اور خالی بوتل میں ڈال لیں اور نہاتے ہوئے شیمپو کی جگہ استعمال کریں جس کے سبب بال اٹھنے کی رفتار میں کمی واقع ہوتی ہے

اور یہ بالوں کو نرم اور چمکدار بناتا ہے اور بالوں کی رنگت کو بہتربناتا ہے اور اس کے بعد نمبر تین ہے انڈہ، ایک انڈہ توڑ کر اس کو اچھی طرح سے پھینٹ لیں اوراپنے بالوں کو گیلا کر کے اس انڈے کا مساج اچھی طرح بالوں پر کریں پھر پانچ منٹ بعد تازہ پانی سے سر کو اچھی طرح دھو لیں، یہ خشک ہونے والے بالوں کے لئے ایک کنڈشنر کے طور پر کام کرے گا اور اس سے بال چمکدار اور صحت مند ہوجائیں گے.

ایلوویرا کے جیل کو جو کہ شفاف ہوتا ہے نہانے سے پہلے اپنے بالوں پر اس کا اچھی طرح مساج کریں اور اس کو آدھے گھنٹے تک لگا رہنے دیں اس جیل کے اندر اینٹی بیکٹیریل اجزاء موجودہوتے ہیں جو کہ کھوپڑی پر موجود بیکٹیریا کا خاتمہ کرتا ہےاس کے علاوہ خشکی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتا ہےیہ بالوں کو نمی فراہم کر کے فاضل چکنائی کا خاتمہ کرتا ہے اور ان کی نشونما میں اضافہ کرتا ہے آدھے گھنٹے کے بعد بالوں کو سادہ پانی سے دھو لیجئے ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button