Urdu Tipsصحت

آم کی گٹھلی کے اندر موجود گودے کا ایک ایسا زبردست فائدہ کہ آپ حیران رہ جائیں گے

اس قدر رسیلا اور مزے دار پھل ہے کہ جتنا بھی کھاؤ ،جی نہیں بَھرتا۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کی گٹھلی بھی بے شمار فوائد کی حامل ہے؟ نہیں، تو لیجیے ذیل میں اس کے چند فوائد بیان کیے جارہے ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد آپ اس کی گٹھلی پھینکنے کی بجائے سُکھا کے سفوف بنا کر رکھ لیں گے، تاکہ بوقت ضرورت استعمال کرسکیں۔دانت اور مسوڑھوں میں درد یا خون رِسنے کی شکایت سے شفا کے لیے آم کی گٹھلی کے اندر سے گِری نکال کر

سُکھا دیں اور سفوف بنا کر اس سے دانت صاف کریں۔کولیسٹرول بڑھنے کی شکایت میں آم کی سوکھی گٹھلی کا پاؤڈر ایک چمچ دِن میں ایک بار پانی کے ساتھ پھانک لیں۔ سَر کی جوؤںسے نجات کے لیے گٹھلی کے سفوف میں لیموں کا رس مِکس کرکے بالوں میں لگائیں اور آدھے گھنٹے بعد سَر دھولیں۔ ایک ہفتے کے استعمال سے جوئیں ختم ہوجائیں گی۔وزن میں کمی کے لیے روزانہ نہار منہ ایک چائے کا چمچ گٹھلی کا سفوف استعمال کریں۔قبض یا اسہال کی شکایت میں گٹھلی کےسفوف کا ایک چمچ سادہ پانی سے پھانک لیں۔ ایک بار آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر باغ کی سیر فرما رہے تھے۔ مرزا غالبؔ بھی ہمراہ تھے، جو پُرتجسس نظروں سے آم کے درختوں کو دیکھ رہے تھے۔ بادشاہ نے پوچھا: ’’مرزا صاحب! آپ درختوں کو گہری نظروں سے کیوں دیکھ رہے ہیں؟

‘‘ مرزا گویا ہوئے : ’’میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ جو شے جسے ملنی ہو، اس کے دانے دانے پر اسی کے نام کی مہر لگی ہوتی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ کسی پر میرے نام کی مہر بھی لگی ہے یانہیں؟‘‘۔یہ سن کر بہادرشاہ ظفرمسکرائے اور مرزا صاحب کا مدعا سمجھ گئے۔ انھوں نے آموں کی ایک بہنگی مرزا صاحب کو بطور تحفہ بھجوائی۔اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزاغالبؔ کو آم سے کتنی ر غبت تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیسویں صدی میں اُردو کے عظیم ترین شاعر علامہ اقبالؔ بھی آموں کے شوقین تھے۔ نوجوانی میں آپ کا دستور تھا کہ آموں کی دعوتوں میں شریک ہوتے۔ ان دعوتوں میں اہل ِلاہور سیروں آم کھا جاتے تھے۔ مرزا غالبؔ کے بقول آم میں دو خصوصیات ہونی چاہئیں: ’’اوّل وہ میٹھے ہوں،دوم بہ کثرت ہوں‘‘۔

اُردو اور فارسی کے ممتاز شاعر، امیرخسرو نے آم کو ’’فخرگلستاں‘‘ کا خطاب دیا تھا… اور یہ پھلوں کے بادشاہ پر خوب سجتا و پھبتا ہے۔آم برصغیر پاک و ہند کا قومی پھل ہے۔ اسی باعث اسے پاکستان و بھارت میں پھلوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ خطہ ہی آم کا مولد و طن ہے۔ وہ پھر جنوبی ایشیا سے نکل کر برازیل اور افریقی ممالک تک پھیل گیا۔ مرد و زن آم کے میٹھے ذائقے اور نرالی خوشبو پر جان چھڑکتے ہیں۔ طبی لحاظ سے بھی یہ بڑا مفید پھل ہے۔ مالٹے کے مانند یہ بھی وٹامن سی کا خزانہ ہے۔ صرف ایک پیالی آم کھانے سے وٹامن سی کی سو فیصد ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ وٹامن سی ہمارا مامون نظام مضبوط کرتا اور ہمیں امراض سے بچاتا ہے۔ ایک پیالی آم میں پچاس ملی گرام وٹامن سی ملتا ہے۔

آم میں ایک اور اہم وٹامن اے بھی خوب ملتا ہے۔ ایک پیالی آم ہماری روزانہ کی ’’35فیصد‘‘ ضرورت پوری کرتا ہے۔ وٹامن اے بینائی مضبوط کرتا ہے۔ نیز وہ جلد کے لیے بھی مفید ہے۔ آم میں وٹامن بی 12‘ وٹامن ای‘ وٹامن کے‘ تھیامین‘ ربوفلاوین‘ نائنین اور فولیٹ بھی ملتے ہیں۔ یہ سبھی انسانی تندرستی کے لیے ضروری ہیں۔معدنیات میں سب سے زیادہ تانبا آم میں ملتا ہے۔ اس کے بعد پوٹاشیم‘ میگنیشم‘ کیلشیم‘ مینگنیز اور فولاد کا نمبر ہے۔ یہ سبھی معدنیات اپنے اپنے طور پر انسان کو تندرست و توانارکھتے ہیں۔طب مشرق کے مطابق آم کھانے سے خون بڑھتا ہے۔ چناںچہ خون کی کمی کے مریض اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آم کی تاثیر گرم ہے۔ اس لیے آم کھانے کے بعد اکثر لوگ دودھ کی لسی پیتے ہیں۔

اطبا کی رو سے آم دل‘ دماغ‘ پھیپھڑوں‘ معدے‘ آنتوں‘ گردے‘ مثانے‘ دانت اور آنکھوں کو طاقت دیتا ہے۔ قبض کشا اور پیشاب آورہے۔ حاملہ خواتین کے لیے طاقت بخش غذا ہے۔ یہ واحد پھل ہے جو اپنی افزائش کے ہر مرحلے پر قابل استعمال ہے۔ ورنہ بیشتر پھل صرف پکنے ہی پر کھائے جاتے ہیں۔طب مشرق میں آم اور متعلقہ اشیا سے درج ذیل بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے:٭ آم کے اچار کا تیل گنج پر لگائیے۔ یہ بال اْگانے کا قدیم ٹوٹکا ہے۔اچار جتنا پرانا ہو گا اس کا تیل اتنا ہی مفید ہے۔٭ آم کی گٹھلی مسواک کی طرح استعمال کیجیے۔ یوں منہ کی بدبو جاتی رہتی ہے۔ نیز دانت مضبوط اور چمکدار ہوتے ہیں۔٭ آم کی جڑ کا چھلکااور برگ شیشم ایک ایک تولہ لیجیے۔ انھیں ایک سیر پانی میں جوش دیجیے۔ جب تیسرا حصہ پانی رہ جائے‘

تو اس میں تھوڑی سی چینی ملائیے اور نوش جان کیجیے۔ یہ نسخہ پیشاب کی بندش دور کرتا ہے۔٭ آم کے درخت سے جو پتے خودبخود جھڑ جائیں‘ انھیں سائے میں رکھ کر خشک کر لیں۔ پھر ان کا سفوف بنا لیں۔ صبح شام یہ سفوف ڈیڑھ ماشہ پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ ذیابیطس کی بیماری میں یہ نسخہ مفید ہے۔٭ آم کے پھول سائے میں خشک کر کے سفوف بنالیں۔ جب بھی کسی کو نکسیر آئے‘ تو یہ سفوف نسوار کی طرح ناک میں ڈالیے۔ نکسیر رک جائے گی۔آم کی مشہور اقسامآم ہماری تہذیب‘ ثقافت‘ تمدن‘ ادب اور روایات میں رچا بسا ہے۔ اس پھل کے بطن سے محاوروں اور امثال نے جنم لیا۔ مثال کے طور پر یہ محاورہ پڑھیے: آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔ یعنی دوہرا فائدہ ہونا۔ حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر پاک و ہند کے عام آدمی کی زندگی میں آم بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button