گھریلو ،سائلوظائف

مغرب کی نماز کےفوراً بعد بس ایک تسبیح پڑھ لیں

آج میں آپ سے جو وظیفہ شیئر کر نے جا رہا ہوں یہ بہت ہی زبردست ہے اور بہت ہی چھوٹا سامگر بہت ہی پاور فل عمل ہے اور اس کو ہر کوئی آ رام سے کر سکتا ہے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک تو اللہ کریم رزق کے سارے دروازے آپ کے لیے کھول دے گا اور اتنا رزق ملے گا سمیٹا بھی نہ جائے گا۔ لیکن اس کےعمل پر آپ کومکمل یقین ہو نا لازمی ہے اس کے ساتھ ساتھ پانچ ٹائم نماز کی پابندی ہونی لازمی ہے.

حلال رزق کا اہتمام ہو نا چا ہیے کیو نکہ حلال رزق کما نا بھی ایک عبادت کے برابر ہوتاہے تو ہم اپنے وظیفے کی طر ف آ تے ہیں تو آپ نے یہ عمل مغرب کی نماز کے بعد صرف ایک تسبیح آپ نے روزانہ پڑ ھ لینی ہے اور یہ عمل اکیس دن جاری رکھیں گے ۔اللہ رب العزت سے جو بھی آپ دعا مانگیں گے اللہ کریم آپ کی اس دعا کو قبول فر ما ئیں گے ہر کوئی آپ کی عزت کر نے پر مجبور ہو جائے گا۔ ہر طرف آپ کی عزت کے چرچے ہوں گے۔

مزید پڑھیں:سورۃ الکافرون 3 بار پڑھ کر سو جائیں اتنی دولت برسے کہ سنبھالنا مشکل ہو

تو یہ تسبیح پڑ ھنی آپ نے ہے او ر اس کی تعداد ہے ایک سو مرتبہ۔ آپ نے اسے یاد کر لینا ہے ممکن ہوا تو آپ کے لیے لکھ کے رکھ دونگا۔ تو سب سے پہلے وظیفہ کوئی بھی آپ شروع کریں تو اس کے اول و آخر میں درودِ پاک ضرور پڑ ھا کریں جتنی آپ کو توفیق ہو۔ چاہے آپ اسے پانچ دفعہ پڑ ھیں سات دفعہ پڑ ھیں اور یا دس مرتبہ پڑھیں یہ آپ کی توفیق پر ہے ۔ جتنا بھی آپ پڑ ھیں گے۔ اتنا ہی آپ کو ثواب ملے گا اور آپ کے دراجات بلند ہوں گے۔

مزید پڑھیں: اگر آپ بھی پیسے جوڑ کر رکھتے ہیں تو ان پر 3 دن یہ عمل کر لو پیسے ڈبل ٹرپل ہوجائیں گے

ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ کا فر ما ن ہے . سیدنا حضرت عمر بن خطاب اس کے راوی ہیں ۔ کہ زمین و آسمان کے درمیان تمہاری دعائیں عبادتیں لٹکتی رہتی ہیں جب تک ان کے اول و آخر آپ ﷺ کی ذات اقدس پر درود اور آپ ﷺ کی آل پر درودِ شریف نہ پڑ ھ لے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عامل جو ہوتا ہے وہ اپنے چاہنےو الوں کو یہ ترغیب ضرور دیتا ہے کہ اگر آپ وظیفہ کر نا چاہتے تو اول آخر درودِ پاک پڑ ھیں اور دوسری شرط اس کی یہ ہے کہ نیت صاف ہو حاجت جائز ہو اور شریعت کے مطا بق ہو اور نیک مقصد کے لیے حاجت ہو۔ کسی قسم کا کوئی عمل نہ کریں۔ گناہ والا نہ کریں ورنہ وہ وظیفہ آپ کے لیے وبالِ جان بھی بن سکتا ہے۔ جائز حاجات کے لیے جائز مقاصد کے لیے آپ نے اس عمل کو کر نا ہے۔ تو جو بھی وظیفہ ہو۔ جائز عمل کے لیے کیا کریں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button