اسلامگھریلو ،سائلوظائف

نہایت طاقتور اور زبر دست عمل-صرف 3 دن میں کام بن جائے

اس تحریر میں ایک ایسا عمل پیش کیا جارہا ہےجو کہ ان لوگوں کے لئے ہے جو چاہتے ہیں کہ وہ کسی کا دل و دماغ اپنی طرف کر لیں. جو لوگ چاہتے ہیں کہ وہ کسی کے دل میں اپنی جائز محبت ڈالیں. تو یہ عمل ان کے لئے بہت ہی زبر دست ہے ۔یہ آسان سا لیکن بہت طاقتور عمل ہے. ایک دن میں ہی محبوب کو حاضر کر دیتا ہے-اور محبوب محبت میں پاگل ہو جاتا ہے. بس ہر وقت آپکا ہی نام لیتا ہے آپ کے پیچھے پیچھے پھرتا ہے جس جس کو بتا یا بہت سے لوگوں نے کہا کے پیر صاحب کیا بتا دیا ہے۔محبوب نے تو جان عذاب کر دی ہے. انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں بہر حال عمل بہت طاقتور ہے جائز جگہوں کا خیال رکھیں- رات کو سونے سے پہلے باوضو ہوکر بیٹھ جائیں سورہ یوسف کی آیت نمبر 30 میں یہ لفظ مل جائیں گے-

11مرتبہ درود شریف پڑھنے کے بعد11 مرتبہ یہ آیت قد شغفھا حباایک سانس میں 11 مرتبہ پڑهنا ہےلمبی سانس لیں 11 مرتبہ پڑھیں سانس باہر نکال لیں پھر لمبی سانس لیں اور 11 مربہ پڑھیں پھر تیسری سانس میں بھی 11 مرتبہ اسی طرح 11 سانسوں میں گیارہ گیارہ مرتبہ پڑهنا ہے۔محبوب کا تصور دھیا ن میں رکھیں-آخر میں پھر درود شریف 11 مرتبہ پڑھیں-روزانہ وقت اور جگہ ایک رکھیں سب کو عام اجازت ہے۔اس کا دوسر ا طریقہ یہ ہے:آپ وضو بنا کر اپنے بستر پر لیٹ جاؤ اور اپنے محبوب کا تصور کرواسکے بعد آپ اس عمل کو پڑہو 21 سے 40 دن کے اندر اپکا محبوب آپ سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوگا

ان شاءاللہ پڑہنے کی تعداد آپ اپنے محبوب کے نام اعداد اور اسکے ماں کے اعداد دونوں کو ملا کر حروف تہجی کے اعتبارسے جو بہی اعداد بنے روزانا وہ تعداد میں عمل پڑہں۔عمل پڑہنے کے بعد بس خاموش ہوکر محبوب کے تصور میں ڈوب جایں اور سو جائں اس عمل کا کرشمہ دیکھو بہت عمل کیا نتیجہ صفر رہا اب ایک بار اس عمل کو کرکے دیکہو آپ بغیر تعریف کئے نہیں رہ سکتے آپ لاکھوں روپیہ لٹا کر بہی ایسا انمول عمل نہیں پا سکتے جو آج اپکو مفت میں بتایا ہے جو بہی کامیابی حاصل کرے

مرے ماں باپ کے حق کے دعاء کرے :وہ آیت یے ہے قد شغفھا حبامحبت انسان کی فطرت ہے اور اسے جو اچھا لگے اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔اکثر یہ محبت یک طرفہ ہوتی ہے۔ انسان اپنی محبت کو پانے کے لیے مشکل سے مشکل کام کرتا آیا ہے۔ کبھی وہ صحراؤں میں خاک چھانتا نظر آتا ہے تو کہیں وہ پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر بناتا۔ محبت انسان کو اس قدر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ انجام کی پرواہ کئے بنا اپنی محبت کو حاصل کرنے کی ہر سعی کرتا ہے۔ کچھ لوگ عشق حقیقی کے متلاشی ہوتے ہیں اور اس کے لیے کئی سخت قسم کی عبادات اور وظائف کا سہارا لیتے ہیں لیکن وہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ انسانوں سے محبت کرنے کو اہمیت نہیں دیتے۔ قدرت نے انسان کی فطرت میں دوسرے انسان سے محبت کرنا رکھا ہے جب آپ اپنی فطرت کے خلاف جاتے ہیں کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ در حقیقت عشق مجازی ہی عشق حقیقتی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اس میں کچھ تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button