اسلامگھریلو ،سائلوظائف

ماہ شوال میں یہ تسبیح کوئی نہیں پڑھتا مگر یہی تسبیح کروڑوں کا مالک بنا دیتی ہے

جب فرشتے اللہ کے حکم سے لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کا حکم لے کر آئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بارگاہ خداوند میں عرض کے باوجود اﷲتعالیٰ نے عذاب نازل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا :يَـٰٓإِبْرَٰهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَآ ۖ إِنَّهُۥ قَدْ جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ ءَاتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍۢ (فرشتوں نے کہا) اے ابراھیم! اس بات سے درگزر کیجئے، بیشک اب تو آپ کے رب کا حکم (عذاب) آ چکا ہے اور انہیں عذاب پہنچنے ہی والا ہے جو پلٹایا نہیں جا سکتا۔چونکہ یہ عذاب قضائے مبرم حقیقی تھا اس لیے نہ ٹل سکا۔دوسری قسم تقدیر مبرم غیر حقیقی ہے جس تک خاص اکابر اولیاء کی رسائی ہو سکتی ہے۔

سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اسی کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں قضائے مبرم کو رد کر دیتا ہوں۔اسی کی نسبت احادیث میں ارشاد ہوتا ہے :لَا يُرَدُّ الْقَضَاءِ إِلاَّ الدُّعَاءَ. صرف دعا ہی قضا کو ٹالتی ہے۔اِنَّ الدُّعَا يَرُدُّ الْقَضَآءَ الْمُبْرَمَ.بے شک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے۔تیسری اور آخری قسم قضائے معلق کی ہےجس تک اکثر اولیاء، صلحاء اور نیک بندوں کی رسائی ہو سکتی ہے، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہو یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے ہو یا اولیاء کرام کی دعاؤں سے، والدین کی خدمت سے یا صدقہ و خیرات سے ہو۔

ﷲپاک کی طرف سے بھی یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بندہ چاہے تو ہم اس کے بدلنے والے ارادے، نیت اور دعا کے ساتھ ہی اس کی تقدیر بھی بدل دیں گے۔ سورۃ الرعد میں ارشاد فرمایا :يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ یعنی اللہ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) ہے۔ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے تعظیم کا سجدہ نہ کیا اور اس وجہ سے وہ کافر ہو گیا لیکن اس بدبخت شیطان نے اللہ سے دعا کی :قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ اس نے کہا اے پروردگار! پس تو مجھے اس دن تک مہلت دے دے (جس دن) لوگ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے ۔اللہ نے اسے کھلی چھٹی دے دی اگر اللہ شیطان مردود کی دعا قبول کر کے اس کی تقدیر بدل سکتا ہے تو یقیناً اپنے نیک بندوں کی دعاؤں سے بھی تقدیر بدل سکتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں شام میں طاعون کی وبا پھیلی اور اس زمانےمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شام کے سفر پر تھے۔ وباء کی وجہ سے انہوں نے وہاں سے نکلنے میں جلدی کی تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :أتَفِرُّ مِنْ قَدْرِ اﷲِ کیا آپ تقدیر سے بھاگتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا:أفِرُّ مِنْ قَضَاء اﷲ اِلٰی قَدْرِ اﷲِ.میں اﷲ کی قضا سے اس کی قدر کی طرف بھاگتا ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر طاعون جیسا مرض کسی علاقے میں وبا کی صورت میں پھیل جائے اور میں کسی دوسرے علاقے میں پہنچ کر اس مرض سے بچ جاؤں تو میرا بچ جانا خدا کی تقدیر یعنی علم میں ہوگا۔ لہٰذا آیت مبارکہ اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں ثابت ہوگیا کہ خداوند تعالیٰ جب چاہتا ہے اپنے علم کے مطابق موقع بہ موقع تقدیر میں رد و بدل کرتا رہتا ہے اور یہ رد و بدل قضائے معلق کی صورت میں ہوتا ہے لیکن جو خدا کے علم میں آخری فیصلہ ہوتا ہے وہی ہو کر رہتا ہے۔وظیفہ یہ ہے کہ آپ یا مُعطِیُ کو 313 بار اور سورہ محمد کو 3 دفعہ روزانہ پڑھیں اور ایک تسبیح یَاوَارِثُ بھی پڑھ لیجئے اور اس عمل کے اول و آخر درود پاک لازمی پڑھیئے اور اس عمل کو جاری رکھیں جب تک کہ آپ کی حاجت پوری نہ ہو ۔چاہے وہ مقصد حاجت اولاد ہو یا کوئی اور مقصد ہو۔ایک پچپن سال کے بندے نے اس عمل کو کیا تو اللہ پاک نے اس کو چھ بیٹوں سے نوازا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button