اسلامگھریلو ،سائلوظائف

قرض میں ڈوبے سات بار یہ سورۃ پڑھ لیں

قرض کی ادائیگی کے لیے اللہ والوں کا خاص عمل کر یں اور بے فکر ہو جا ئیں پہاڑ جتنا قرض بھی ہو انشاء اللہ ادا ہو جا ئے گا آج قرض کی ادائیگی کا ایک بہت ہی عظیم وظیفہ آپ کو بتانے لگا ہوں آپ نے کاروبار کیا نقصان ہو گیا قرض چڑھ گیا یا اور کسی بھی وجہ سے گھر یلو حالات کی وجہ سے قرض چڑھ گیا تواس کے لیے جو وظیفہ حاضر ہے انشاء اللہ اس عمل کی بد ولت پہاڑ جتنا قرضہ بھی ہو وہ ادا ہو جا ئے گا قرض سے نجات کا ایک ایسا عظیم عمل ہے جس سے رحمتیں خداوندی آپ کے شاملِ حال ہوجا ئیں گی غیب سے قرض کی ادائیگی کے ایسے اسباب نکلیں گے پیدا ہوں گے۔

کہ انشاء اللہ آپ کا قرضہ پہاڑ جتنا بھی ہو وہ ادا ہو جا ئے گا تو اس کے بعد خود آپ لوگوں کو قرضہ دیتے پھر یں گے اتنی فراوانی ہو جا ئے گی رزق کا تنگ ہو جا نا یا قرض داروں کا تنگ کر نا وہ عوامل ہیں جو انسان کی زندگی کوجہنم بنا دیتے ہیں لوگ رشتہ داروں سے دوست احباب سے محلے داروں سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں زندگی سے تنگ آجا تے ہیں مایوس ہو جا تے ہیں اکثر لوگ اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں جو کہ بہت بڑا گ ن ا ہ ہے اور اللہ نہ کر ے یہ ایسے عوامل ہیں کہ انسان کو کفر تک لے جاتے ہیں انسان دنیا سے بھی جاتا ہے۔

اور آخرت سے بھی جا تا ہے یاد رکھیں مایوسی گنا ہ ہے یہ زندگی چار دن کی ہے اس کو اچھے طریقے سے گزار لیں اللہ پاک کا ذکر کر یں وہ انشاء اللہ آپ کو اتنا کچھ عطا کر ے گا کہ آپ کی سوچ بھی نہیں ہوگی روزی کو بحال کرنے کا ایک ایسا وظیفہ ہے جس کے کرنے سے آپ کی قرض کی پریشانی انشاء اللہ دور ہو جا ئے گی قرض کو بھی یہ دور کرنے کا یہ بہت ہی مجرب عمل ہے ہر نماز کے بعد اول آخر گیارہ بار درودِ ابراہیمی کے ساتھ سات مرتبہ سورۃ قریش پڑ ھیں اور یہ عمل آپ نے فرض نماز کے بعد کر نا ہے بعد میں باقی نماز ادا کر نی ہے۔

اگر آپ کاروبار کرتے ہیں تو اس میں اتنی بر کت آئے گی کہ گاہک آپ کا انتظار کر تے رہیں گے لائنوں میں لگ کرآپ کا مال بکے گا انشاء اللہ یہ ایسا عظیم وظیفہ ہے اس سے آپ کی روزی فراغ ہو جا ئے گی جو بھی آپ کے پاس ہوآپ دوسروں کے ساتھ بھی اس کو شئیر کر دیا کر یں صدقہ زیادہ سے زیادہ دیا کر یں آپ اپنا جو بھی مانگنے و الا ہو اس کو خالی ہاتھ نہ لو ٹا ئیں آپ اپنے رشتہ داروں پر صلہ رحمی کر یں ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button