اسلاماہم خبریںدلچسپ

قرآن مجید مسلمانوں کی آسمانی کتاب ہے ۔ قرآن مجید کے بارے میں چند اہم معلومات

قرآن مجید کے حوالے سے چند بنیادی اور اہم معلومات جن کا علم ہونا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے ۔قرآن حکیم مسلمانوں کی آسمانی کتاب ہے ۔ قرآن مجید کے بارے میں چند اہم معلومات مندرجہ ذیل ہیں ۔

قرآن کریم میں سورتوں کی کل تعداد 114 ہے ۔ اس میں 30 پارے ہیں۔ سب سے زیادہ سورتیں تیسویں پارے میں موجود ہیں ۔
قرآن کریم کے کل رکوع540 رکوع ہیں ۔
قرآن مجید کی آیات کی تعداد 6666 ہیں ۔

قرآن کریم میں مدنی سورتوں کی تعداد 27 جبکہ مکی سورتوں کی تعداد 87 ہے۔ قرآن حکیم کا موضوع انسان ہے ۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا نام محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم قرآن کریم میں 4 بار آیا ہے ۔قران کی سب سے پہلے نازل ہونے والی سورۃ العلق ہے ۔

جب کہ آخری سورہ، سورۃ النصر نازل ہوئی ۔ قرآن مجید کی پہلی نازل ہونے والی آیت اقرا بسم ربک الذی خلق ہے ۔ جب کہ آخری آیت سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 نازل ہوئی ۔ قرآن کریم کی سب سے لمبی سورہ ، سورۃ البقرہ اور سورۃ الکوثر قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورہ ہے ۔

قرآن کریم میں ایک صحابی کا نام آیا ہے اور وہ صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ قرآن مجید میں صرف ایک خاتون کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے اور وہ خاتون حضرت مریم علیہ السلام ہیں ۔ مقدس آسمانی کتاب قرآن پاک کی سب سے چھوٹی آیت سورت طہ کی پہلی آیت ہے ۔ قرآن حکیم تقریبا 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا ۔قرآن مجید کی کل منزلیں 7 ہیں ۔ سورۃ النمل میں 2 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم آئی ہے جب کہ سورۃ توبہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ قرآن کریم کی باقی تمام سورتوں کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم موجود ہے ۔ قرآن پاک کے تمام پاروں کا نام ان کے پہلے لفظ پر رکھا گیا ہے ۔ سورۃ یسن کو قرآن مجید کا دل کہتے ہیں ۔ قرآن کریم میں سب سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زکر آیا ہے ۔

اس کے علاوہ قرآن کریم میں 26 انبیاء کرام کے نام موجود ہیں ۔ اللہ کا لفظ تمام سورتوں میں موجود ہے ۔ دو عورتیں جن کو قرآن پاک میں غلط کہا گیا ہے وہ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی ہیں ۔ حضرت مریم علیہ السلام اور حضرت آسیہ علیہ السلام کو تمام دنیا کی عورتوں کے لئے بہترین نمونہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button