اسلامگھریلو ،سائلوظائف

قرآن پاک کی یہ سورہ روزانہ پڑھ لیاکریں آپ کے رزق میں برکت اورفراوانی آئےگی

معزز خواتین وحضرات ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ پیارے دوستو۔۔۔۔ہر تکلیف اور آزمائش ، سہولت اور خوشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے پریشانیوں اورمصائب کا حل اللہ کے پاس ہے، یعنی آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ھے ،

اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے ذریعے بھی متوجہ ہوں اور آج کا عمل مجھ سے سیکھ کر اپنے مسائل کا حل اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیجیے، گویا اللہ تعالیٰ کو اپنے مسائل کے حل کا وکیل بنادیجیے یعنی اگر کوئی شخص کسی مصیبت یا پریشانی میں پڑگیا ہے اور کسی طرح وہ مصیبت دور ہی نہیں ہوتی تو اللہ کے لئے یہ عمل کیا جائےجو آج میں آپ سب کو سیکھارہاہوں ۔ میں خود بھی یہ عمل کرتا ہوں ۔ بزرگوں سے مجھے یہ عمل ملا ھے۔ یہ عمل کرنے کے بعد حق تعالیٰ سے امن و عافیت طلب کیجئے ، ان شاء اللہ چند روز میں آپ کی مصیبت ،پریشانی دور ہوجائیگی اور دل کو اطمینان حاصل ہو بخاری شریف میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے میری طرف کہلاوا بھیجا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی لکھا کرتے تھے، لہذا قرآنی آیات تلاش کرو، سو میں نے تلاش شروع کی تو مجھے ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آخری دو آیات جا ملیں، ( یعنی تحریری طور پر) جو ان کے علاوہ کسی اور کے پاس (تحریری طور پر ) نہیں ملی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کو یک جا کرنے کا ارادہ کیا اور لوگوں سے فرمایا: جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کا کوئی حصہ سیکھا ہو وہ ہمارے پاس لے کر آجائے۔لوگوں نے قرآن مجید کی آیات کاغذوں پر، تختیوں پر اور درختوں کے پوست پر لکھ رکھی تھیں۔ حکم کے مطابق لوگ آیات لانے لگے،

لیکن آپ کسی کی لائی ہوئی کوئی آیت قبول نہیں کرتے تھے جب تک دو شاہد شہادت نہیں دیتے تھے (کہ یہ قرآن کی آیات ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تعلیم دی تھی)، آپ جمع ہی کر رہے تھے کہ آپ کو شہید کردیا گیا۔اس کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ خلیفہ مقرر ہوگئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ ہو وہ میرے پاس لے آئے۔ آپ بھی کوئی آیت بغیر دو شاہدوں کے شہادت دیے قبول نہیں کرتے تھے۔حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگوں نے دو آیتیں نہیں لکھیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کون سی ہیں؟حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسورت توبہ کی آخری دو آیتیں سیکھی تھیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ دونوں آیات اللہ کی طرف سے آئی ہیں۔لہذا اگر کوئی شخص کسی مصیبت یا پریشانی میں پڑگیا ہے اور کسی طرح وہ مصیبت دور ہی نہیں ہوتی تو نماز فجر پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر میں مشغول رہیے۔ یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوجائے پھر دو رکعت نفل اشراق پڑھے اس کے بعد سورہ توبہ کی آخری دو آیتیں گیارہ بار پڑھے پھر سر بسجود ہو کر حق تعالیٰ سے امن و عافیت طلب کیجئے ، ان شاء اللہ چند روز میں آپ کی مصیبت ،پریشانی دور ہوجائیگی اور دل کو اطمینان حاصل ہوگا، اور حاجت براری بھی نصیب ہوگی۔پیارے دوستو ۔۔۔

اس عمل کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی آزادی نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔

اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button