urdu maloomatUrdu Tipsدلچسپصحت

ستو پینے کے فوائد جانئیے

پاکستان میں خصوصاً گرمیوں کے موسم میں جہاں مختلف قسم کے مشروبات بیچنے والے افراد سڑکوں پر نظر آتے ہیں، وہیں ستو کا جوس بیچنے والے بھی دکھائی دیتے ہیں، ان کے پاس صرف انہی لوگوں کا رش ہوتا ہے جو اس کے خاص فوائد سے واقف ہوتے ہیں۔

ستو کو مشروبات کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں موجود کچھ ایسے لیکٹوجنز ہوتے ہیں جو آپ کے جسم میں داخل ہونے کے بعد بڑی تبدیلیاں کر دیتے ہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً کراچی میں گرمی کی شدت حد سے زیادہ ہوتی ہے، ایسے میں آج گرمی سے پریشان لوگوں کے لئے جہاں ستو کے جوس کا مشورہ دیا جا رہا ہے وہیں ہم بتائیں گے اس کے فائدے بھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ستو کسے کہتے ہیں اور یہ کن چیزوں سے مل کر بنتا ہے؟ دراصل یہ آٹے کی طرح آتا ہے، ان کو بنانے کے لئے گندم کو اچھی طرح پکا کر براؤن کیا جاتا ہے، اس میں پھر چنے کا آٹا بھی بھنا ہوا شامل کیا جاتا ہے، جس سے اس کا رنگ ہلکا پیلا اور ہلکا براؤن ہو جاتا ہے۔

ستو کے فوائد

ستو دل کی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ہے، اس میں فائبر، میگنیشیئم اور پروٹین ہوتا ہے جو دل اور شریانوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

ہاضمہ بہتر اور جلدی ہضم کرنے کا کام بھی ستو کرتا ہے، یہ ایسے فائبر اور کولیسٹرول سے بھرپور ہے جو کھانے کو جلد ہضم کرتے ہیں اور آپ کے میٹابولزم کو بڑھانے کا کام بھی دیتے ہیں۔

جگر میں ہونے والی کمزوری کو دور کرنے اور جسم سے نقصان دہ مادوں کے اخراج کے لئے ستو کا روزانہ استعمال کرنے کی ڈاکٹر ترغیب دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ستو میں سیلیفائبرولک انزائمز موجود ہوتے ہیں، جو جگر کو مضبوط کرنے میں الیکٹرولائٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ہ موٹاپے کو کم کرنے اور جسم کو فٹ رکھنے میں بھی فائدہ مند ہے، جن لوگوں کا وزن تیزی سے بڑھ رہا ہے وہ روزانہ نہارمنہ ایک چمچ ستو کو گرم پانی میں شامل کرکے پیئیں، اس سے آپ کا وزن نہیں بڑھے گا۔

مرد حضرات کو اکثر زیادہ کام کرنے کی وجہ سے رات کو نیند نہیں آتی ہے، ان کو چاہیئے کہ وہ ستو کے جوس میں مصری کا اضافہ کرلیں، یہ نیند کو بہتر کرتا ہے۔

اس سے شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے، شوگر کے مریضوں کو دن میں 2 مرتبہ ستو پینا چاہیئے، لیکن اگر چاہیں تو اس کو ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ کھا بھی سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button