Urdu Tipsاسلامدلچسپ

آپ ﷺ نے اُلٹا ہوکر سونے سے کیوں منع فرمایااور آج سائنس کیا کہتی ہے- آپ بھی جان کر حیران ہوجائیں گے

آج کل کے دور کی مصروف زندگی انسان کو بہت زیادہ تھکا دیتی ہے اور پھر جب دن بھر کی مصروف روٹین کے بعد جب انسان کو رات میں بستر نظر آتا ہے تو اس کادل چاہتا ہے کہ بس اس پر فوراً لیٹ کے سوجائیں۔

لہذا کچھ لوگسارا دن کی تھکاوٹ کے رات کو جیسے ہی بستر دیکھتے ہیں تو وہ فوراً الٹے ہوکر سوجاتے ہیں۔ہر شخص کے سونے کاطریقہ مختلف ہے ، کچھ افراد سونے کے لیے زیادہ جگہ لیتے ہیں کچھ لوگ بالکل سمٹ کے سوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پیٹ کے بل لیٹ کے سوتے ہیں۔

لیکن معزز دوستو کیا آپ جانتے ہیں کہ پیٹ کے بل لیٹ کر سونا کتنا خطرناک ہے؟پیٹ کے بل سونا آپ کی گردن اور پیٹھ کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی نیند میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے جس کے باعث آپ کا اگلا دن بالکل بھی اچھا نہیں گزرتا اور آپ سارا دن تھکاوٹ محسوس کرتے رہتے ہیں۔پیٹ کے بل لیٹ کر سونے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں کھیچاؤ پیدا ہوجاتا ہے،

جس کے باعث آپ کو سونے میں بہت پریشانی محسوس ہوتی ہےاور آپ اپنے روٹین کے کام بھی ٹھیک طرح پر سرانجام نہیں دے پاتے۔آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کون کون سے حصے متاثر ہوتے ہیں، جن میں سب پہلے ہے ریڑھ کی ہڈی دوستو ریڑھ کی ہڈی آپ کے جسم میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اگر آپ کی ریڑھ کی ہڈی صحیح طور پر کام نہیں کرے گی توآپ کا پورا جسم متاثر ہوگا اور آپ کوئی بھی کام ٹھیک طرح سرانجام نہیں دے سکتے۔اس کے علاوہ پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کئی حصے سن ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ہاتھوں اور پاؤں کا سُن ہوجانا شامل ہے

پیٹ کے بل سونے سے آپ کی گردن بھی متاثر ہوسکتی ہے،مسلسل الٹے ہوکر یا پیٹ کےبل سونے سے آپ کی گردن میں درد بیٹھ جاتا ہے جس کو عام زبان میں گردن میں بل پڑنا بھی کہتے ہیں اور آپ آسانی کے ساتھ گردن کو حرکت نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پیٹ کے بل سونے کی بہت زیادہ عادت ہے تو آپ ایسےسوتے ہوئے تکیے کا استعمال ہرگز نہ کریں، یا اگر کریں بھی تو بالکل پتلے تکیے کا استعمال کریں تاکہ اس سےآپ کی گردن میں درد نہ ہو۔٭ جب آپ صبح سو کے اٹھیں تو اپنی جسم کو اسٹرچ کریں، اس عمل سے آپ کا جسم نارمل ہوجائے گا

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button