شوال میں ایک دن صرف 5 منٹ کا یہ عمل کرلو-نیا گھر-اولاد-گاڑی-دولت

admin

mahe shawwal mein aik din ka amal

حضر ت عیسی ؑ کے حوالےسے ایک واقعہ ہے کہ ان کا ایک بستی سےگزرہوا وہاں ایک دھوبی رہتا تھا۔ بستی والوں نے حضر ت عیسی ؑ سے اس کی شکایت کی کہ یہ ہمارے کپڑے پھاڑ دیتا ہے۔ اوراپنے پاس رو ک کر بھی رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے بددعا کیجیے ۔ وہ اپنے کپڑوں والی جو گٹھری ہے اس کے سمیت واپس ہی نہ آسکے۔ حضرت عیسی ؑ نے یہ دعا کردی ۔ اگلے دن وہ دھو بی معمول کی طرح کپڑے دھونے کےلیے چلا گیا اور تین روٹیا ں اس کے پاس تھیں۔ وہاں قریب ہی پہاڑوں میں ایک عبادت گزار بھی رہتا تھا ۔وہ عبادت گزار دھو بی کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا تیرے پاس کھانے کو کوئی روٹی ہے۔

اگر ہے تو ذرا سامنے کردے تاکہ میں اس کو صرف ایک بار دیکھ لوں یا صرف اس کی خوشبو سونگھ لوں۔ کیونکہ میں نے ایک عرصہ سے کھانا نہیں کھایا۔اس دھوبی نے ان میں سے ایک روٹی کھانے کے لیے اس عبادت گزار کو دے دی۔ عبادت گزار دعا دیتے ہوئے کہنے لگا اللہ تعالیٰ تیرے گنا ہوں کو معاف کرے اور دل کو پاک کرے ۔ اس دھوبی نے دوسری روٹی بھی اسے دے دی۔وہ عبادت گزار کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تیرے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کرے۔اس کے بعد دھوبی نے تیسری روٹی بھی اس عبادت گزار کو دےدی ۔ تو آپ وہ عابد بولااے دھوبی ! اللہ تعالیٰ تیرے لیے جنت میں محل بنا دے ۔

اب جب شام ہوئی تو دھوبی صیحح سلامت واپس آگیا۔تمام بستی والوں نے بہت حیران ہوکر حضرت عیسی ؑ کو بتایا کہ دھوبی تو بلکل ٹھیک ٹھاک واپس آگیا ہے۔ آپ نے دھوبی کو اپنے پاس بلایا اورپوچھا کہ مجھے سچ سچ بتانا آج تونے کیا عمل کیا ہے؟۔ وہ دھوبی کہنے لگا ان پہاڑوں میں ایک عبادت گزار رہتا ہے وہ میرے پاس آیا اور اس کے مانگنے پر میں نے اپنی تینوں روٹیاں اسے دے دیں اور ہر روٹی کے بدلے اس نے مجھے بہت سی دعائیں دیں۔

حضرت عیسی ؑ نے فرمایا کہ : اپنے کپڑوں والی گٹھر ی کو کھو ل کردکھا ۔ اس نے جب اپنی گٹھری کو کھولا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک سیاہ پھن والا سانپ بیٹھا ہوا اور اس کے منہ پر لوہے کی لگام ہے۔حضرت عیسی ؑ نے سانپ کو پکارا تو اس نے “لبیک یا نبی اللہ ” کہہ کر جواب دیا ۔ آپ نے فرمایا: تجھے اس شخص کی طرف نہیں بھیجا گیاتھا کیا؟ ۔سانپ بولا ہا مجھے اس کیطرف ہی بھیجا گیا تھا لیکن اس کےپاس ان پہاڑوں میں سے ایک عابد آیا اس نے روٹی مانگی اور ہر روٹی کے بدلے میں اس نے دعائیں دیں۔اور ایک فرشتہ پاس کھڑا اس کی ہر دعا پر آمین کہتا رہا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو بھیجا جس نے مجھے لوہے کی لگا م پہنا دی۔ حضرت عیسی ؑ نے اس دھوبی سے فرمایا اس عبادت گزار پر صدقہ کرنے کی بدولت تیرے پچھلے سب گناہ معاف ہوگئے ہیں۔

اب نئے سرے سے اعمال شروع کر۔تو دوستو آپ سمجھ گئے ہیں کہ ہر انسان اپنے آپ کو نیکوں کار سمجھتاہے۔ کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ مجھ سے فلاں گناہ سرزہوا ہے۔ میں نے فلاں کا حق مارا ہےیا میں نے فلا ں کے ساتھ بہت برا کیا ہے کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے .تو دوستو آپ کویہ چاہیے کہ جب بھی آپ کوئی عمل شروع کریں تو اپنے ہاتھ سے کچھ صدقہ و خیرات کسی ایسے غریب شخص کو دیں جو سفید پوش ہو۔ جو اپنے آپ کو ظاہر نہ کر تا ہو۔ واقعتاً وہ غریب ہواس کو آپ صدقہ کریں۔ ان شاءاللہ ! اس کے بدلے وہ آپ کو دعائیں گااور جب آپ اس کی دعائیں لے کر واپس لوٹیں گیں تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معا ف ہوچکے ہوں گے ۔

پھرآپ نے یہ عمل شروع کرنا ہے۔انشاءاللہ! آپ جیسے ہی عمل کریں گے ۔ آپ ان نئے لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ کیونکہ حضر ت عیسی ؑ نے فرمایا : نئے سرے سے اعمال شروع کر۔ تیرے پچھلے سب گن اہ معا ف ہوں گے۔ لیکن ایک بات واضح کردیں کہ اگر آپ نے کسی کا حق مارا ہے۔ کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرلیا ہے۔ کسی یتیم کے مال کا حق مار لیا ہے۔ توآپ کو وہ حق دینا ہوگا۔ یہ ان گن اہوں کی بات ہورہی ہے۔ جو ہم سے جانے انجانے میں گن اہ سرزدہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ کسی کے مال پر قبضہ کرلیں۔ اورآپ کہیں میرے سب گن اہ مع اف ہوگئے۔ آپ نے صدقہ وخیرات کرنے کے بعد پھرآپ نے عمل شروع کرنا ہے۔انشاءاللہ! آپ کا جو وظیفہ ہے۔ آ پ کا جوعمل ہے۔آپ کاوظیفہ ضرورباضرور کام کرے گا۔ آپ نے ہفتہ کے دن میں صرف اور صرف چار رکعت نماز نفل ادا کرنی ہے۔ کسی بھی وقت میں۔ چار رکعت نفل جس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت کیا جاتا ہے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ :جو شخص ہفتہ کے دن میں چار رکعت نفل نماز ادا کرے۔ اسے ہر حرف کے عوض ایک سال کے دنوں کے روزوں کا ، سال بھر کی راتوں میں قیام کا اجر عنا یت فرمایا جاتا ہے۔اور ہر حرف کے بدلے ایک شہید کا ثواب بھی عطا فرمایا جاتا ہےا ور قیامت کے دن انبیائے کرام ؑ اور شہداءکے ساتھ عرش الہی ٰ کےنیچے جگہ پائے گا۔ آ پ نے یہ چار رکعت نفل کسی بھی وقت پڑھ لینے ہیں۔ آپ کو وہ تما م تر فضیلتیں حاصل ہوں گی۔ انشاءاللہ! صدقہ وخیرات کے بعد عمل شروع کریں گے۔جو بھی اللہ سے طلب کریں گے۔ تواللہ پاک آپ سے تما م تر رکاوٹیں اور پریشانیاں ختم کرکے آپ کی حاجت کو ضرور باضرور قبول فرمائیں گے۔

Leave a Comment