تحفہ ہمارے جزبات اور خلوص کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے تحائف ہمارے دلوں میں…

admin

chote chote tahaif hamare dilon mein

تحفے کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں پیار، محبت،خلوص اور اپنائیت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر کسی دوسرے انسان کو اپنی محبت کا احساس دلانا ہو یا اپنے جزبات اس تک پہنچانے ہوں تو تحفے سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ دوسروں کو اگر اپنا خلوص دکھانا ہو تو زبانی دعووں کی بجائے اگر ہم تحفہ دے دیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔

تحفہ ہمارے خلوص اور جزبات کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے ۔ چھوٹے چھوٹے تحائف ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے اپنائیت کا جزبہ پیدا کرتے ہیں اور رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ تحفہ دیتے ہوئے ہمیں دوسرے کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھنا چاہیے ۔ تحفہ بے شک سستا ہی کیوں نہ ہو لیکن دلکش اور اچھا ہونا چاہیے۔

اس سے جس کو ہم تحفہ دیں گے اس کو پتہ چلے گا کہ کوئی ہمارا اپنا ہے جو ہمارا خیال رکھنا پسند کرتا ہے ، کسی کےدل میں ہمارے لئے خلوص اور پیار ہے ۔ تحفہ دینے کے لیے نہ تو کوئی وقت اور نہ ہی جگہ مقرر ہوتی ہے، اور نہ ہی کوئی موقع یا مقدار مقرر ہے ۔

تحفے ہمیشہ دلوں کو جوڑتے ہیں، دلوں سے رنجشیں مٹاتے ہیں ، اور رشتہ داری کو مضبوط کرتے ہیں۔ تحفہ دیتے وقت دل میں خلوص ، آنکھوں میں چمک، چہرے پر خوشی،زبان پر دعائیہ کلمات ہونے چاہیئے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احکامات کے مطابق تحفہ دینے کی اصل بنیاد محبت اور خلوص ہو نہ کہ مفاد پرستی یا دکھاوا ۔ اسلام میں تو ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ کوئی مسلمان پڑوسی اپنے دوسرے مسلمان پڑوسی کو چھوٹی سی چیز دینے کو بھی حقیر نہ سمجھے ۔ اسلامی شریعت کے مطابق اگر گھر میں گوشت بنایا ہو تو اس میں تھوڑا شوربہ زیادہ کر لینا چاہیے اور پھر اس سالن کو اپنے پڑوسی کو ہدیہ دے دینا چاہئیے ۔

Leave a Comment