urdu maloomatاسلام

ایسا شخص جو جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا

انسانوں اور دیگر حیوانات میں یہی ایک فرق ہے کہ انسان علم حاصل کر لیتا ہے جب کہ باقی حیوانات اس اہلیت سے محروم رہتے ہیں ۔علم ہی وہ واحد شے ہے جس کی وجہ سے انسان اچھے اور برے میں تمیز کر سکتا ہے ۔ علم کی وجہ سے ہی انسان کو فرشتوں پر بھی برتری دی گئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی تھی وہ بھی یہی تھی کہ “پڑھ “۔

قرآن پاک میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں لوگوں کے درجے بلند فرماتا ہے جن کو علم اور ایمان عطا کیا گیا ہے ۔حدیث شریف میں بھی نبی کریم خاتم النبیین ، راحتہ العاشقین ،حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے عالم کو عابد پر بے انتہا فضیلت دی ہے ۔

اسلام نے علم حاصل کرنے پر بے حد زور دیا ہے ۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا جس کا مفہوم اس طرح ہے کہ
جو لوگ یہاں موجود نہیں ہیں وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں ۔

جو شخص علم حاصل کرتا ہے اور اسے دوسروں کو سکھاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان سب علم سیکھنے والوں کے برابر میں سکھانے والے کو اجر عطا فرماتا ہے ۔ جب کہ سیکھنے والوں کے اجر میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔جو شخص جان بوجھ کر علم کو چھپائےاور اسے دوسروں تک نہ پہنچائے تو اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت بھیجی گئی ہے ۔

جو شخص علم کی بات کو چھپاتا ہے. اسے دوسرے لوگوں تک نہیں پہنچاتا تو ایسے شخص کو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔کوئی ایسا علم جس سے اللہ رب العالمین کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ اگر کسی نے اس علم کو مال اور دنیا کی دولت کمانے کے لیے حاصل کیا تو وہ شخص جنت کی خوشبو تک بھی نہیں پا سکے گا ۔حدیث شریف میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ

جس شخص نے علماء کرام کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے یا پھر بے وقوفوں سے لڑائی جھگڑا کرنے کے لیے یا اپنے علم کی برتری دکھانے کے لئے علم حاصل کیا تو وہ شخص جہنم میں داخل کیا جائے گا ۔حدیث شریف کے مطابق صرف 2 قسم کے لوگوں پر رشک کرنا جائز ہے. ایک وہ جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین کا علم دیا ہے اور وہ شخص اس علم کے مطابق خود بھی عمل کرتا ہے اور لوگوں کو بھی سکھاتا ہے ۔اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت عطا فرمائی ہے اور وہ اس دولت کو نیک کاموں میں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ۔

دنیا سے دین کا علم اٹھ جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی قرار دیا گیا ہے ۔تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے ۔یہاں جس علم کی بات کی گئی ہے وہ دینی علم ہے لیکن دینی علم کے ساتھ ساتھ باقی علوم کا جاننا بھی بے انتہا ضروری ہے ۔ اسی لئے تو کہا گیا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں اس کے لیے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button