Urdu Tips

صرف اس ایک چیز کے استعمال سے آپ کمر، گھٹنوں اور جوڑوں کے درد سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں

گڑ کے وہ تین فوائد جن کے بارے میں آپ جان کر چینی کو بھول جائیں گے اور گڑ کو استعمال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ گڑ کے یہ قیمتی ٹوٹکے آپ کو جوڑوں کے درد، قبض ، اور معدے جیسے امراض سے محفوظ رکھیں گے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی جسمانی کمزوری کا بھی خاتمہ کریں گے۔ گڑ ایک بیش بہا اور بیش قیمت قدرتی جزو ہے،جو کہ جگر کی صفائی کرکے معدے کو ٹھیک کرتا ہے۔ اورآپ کے جسم سے فاسد مادوں کوخارج کردیتا ہے۔

گڑ کا ذائقہ میٹھا اور اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے ۔ یہ جسم سے آئرن کی کمی کو دورکرتا ہے اور جگر کی کارکردگی کو کافی حد تک بہتر بنا دیتا ہے۔ گڑ کے بتائے گئے یہ ٹوٹکے یقینا آپ کی زندگی کو بدل کے رکھ دیں گے۔

ٹوٹکہ نمبر 1):
یہ ٹوٹکہ معدے کی خرابی اور اس کی مختلف قسم کی گڑ بڑ کو دور کرنے کےلیےبہت کارآمد ہے۔آپ سب سے پہلے تین عدد بڑی الائچی لے لیں۔اب آپ آدھے چمچ کے برابر گڑکی ایک ڈلی اس میں ڈال دیں۔اب ان دونوں چیزوں کو گرینڈ کرکے اس کا باریک پاؤڈر بنالیں۔ اس پاؤڈر کو آپ 4سے 5 دن تک کسی ائیر ٹائیٹ بوتل میں ڈال کر محفوظ بھی کر سکتے ہیں۔ اس پاؤڈر کاآدھا چمچ صبح وشام کھانا کھانے کے آدھے گھنٹے بعد پانی کے ساتھ کھالیں۔ آپ کے معدے میں جس قسم کی بھی خرابی ہوگی وہ ٹھیک ہوجائےگی۔

ٹوٹکہ نمبر2) :
یہ ٹوٹکہ گھٹنوں اور جوڑوں کے درد سے پریشان لوگوں کےلیے ہے۔ آپ ایک چمچ کے برابر گڑ لے لیں یعنی ایک بڑی ڈلی گڑکی لینی ہے۔اب اس میں تقریبا آدھے چمچ کے برابر دارچینی کی ڈال لیں۔ اور ان دونوں چیزوں کو گرینڈ کرکے اس کا باریک پاؤڈر بنالیں۔
اس پاؤڈر کو آپ تین دن تک کسی جار میں سٹور کر سکتےہیں۔ اس پاؤڈر کی آدھی چمچی رات کے کھانے کے ایک گھنٹے بعد کھالیں۔ ہفتے میں تین بار یہ ٹوٹکہ استعمال کریں۔ گھٹنوں اورجوڑوں کے درد میں بہت تیزی سے شفاء ملے گی۔

ٹوٹکہ نمبر 3 ):
موٹاپے اور قبض کےشکار افراد کےلیے یہ ٹوٹکہ نہایت فائدہ مند ہے۔ اس کےلیے ایک چھوٹا چمچ سونف لے کراتنی ہی مقدارمیں سونٹھ لے لیں۔ اور ایک بڑا چمچ گڑ کی ڈلی ڈال لیں۔ اب ان تمام اجزاء کا باریک پاؤڈر بنالیں۔ اس کو آپ تین سے چار دن تک سٹور کرسکتے ہیں۔ اس پاؤڈر کا آدھا چمچ رات کے کھانے کے ایک گھنٹے کے بعد کھالیں۔ ہفتے میں تین بار یہ ٹوٹکہ استعمال کریں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button