Urdu Tipsصحت

نکھری اور چمک دار جلد کے لئے آسان بیوٹی ٹپس آزمائیں اور پائیں چاند سا مکھڑا۔

گھریلو ٹوٹکوں کے زریعے اپنے مسائل کا حل سب سے سستا اور آسان ترین طریقہ ہے ۔ جس کے لئے ایک تو آپ کو ہزاروں روپے خرچ نہیں کرنے پڑتے اور اس کے ساتھ ہی آپ اپنے گھر میں ہی اپنے مسائل سے نجات بھی حاصل کر سکتے ہیں ۔
چمک دار اور نکھری جلد کے لئے کئی ایسے ٹوٹکے ہیں جن کو اپنا کر آپ اپنی خوبصورتی کے حصول کو یقینی بنا سکتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو چند انتہائی آسان سستے اور گھر میں ہی دستیاب چیزوں سے شفاف اور صحت مند جلد حاصل کرنے کے کچھ طریقے بتاتے ہیں تاکہ آپ جلد از جلد خوبصورتی پا سکیں ۔

ہلدی کا حیرت انگیز استعمال:
ہلدی میں اینٹی سیپٹک، اینٹی اکسیڈنٹس، اور جلد کو چمکانے کی خصوصیات وافر مقدار میں موجود ہوتی ہیں ۔ اگر آپ اپنے چہرے پر ہلدی کا پیسٹ بنا کر لگائیں گے تو اس سے 2 رنگ کی جلد کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ اس سے چہرے پر موجود الرجی اور لال نشانات وغیرہ بھی دور ہو جائیں گے۔

ٹماٹر کے رس کا استعمال:
ٹماٹر کا رس آپ کے چہرے پر موجود گڑھوں اور کھلے مسام وغیرہ کو بند کرنے کے لئے بہت مفید ہے ۔ اس کے لئے ٹماٹر کے جوس میں چند قطرے لیمن جوس ملا ئیں اور اس سے آپ کے چہرے پر قدرتی نکھار بھی آ جائے گا اور جلد بھی صاف اور شفاف ہو جائے گی۔
آلو کا استعمال :
آلو جلد کو چمکانے کے لئے اور چہرے کو نکھارنے کے لئے ایک بہترین طریقہ ہے ۔ اس کے لئے ایک آلو کو خوب میش کر کے اس کو چہرے پر ماسک کی طرح لگائیں اور چند منٹ بعد اس کو ہلکے نیم گرم پانی سے دھو لیں ۔

دار چینی اور شہد کا استعمال:
ایسے لوگ جن کو چہرے پر دانوں کی شکایت ہوتی ہے ان کو چاہیے دارچینی کو پیس کر اس میں شہد ملا کر اچھی طرح مکس کرلیں اور اس کو ماسک کی طرح لگا لیں ۔ اس سے ایک تو ایکنی کی شکایت دور ہو جائے گی اور دوسرا بیکٹیریاز کا بھی خاتمہ ہو جائے گا ۔ اس کے بعد تازہ ایلوویرا جیل لگائیں، یہ ماسک آپ کے چہرے کو موسچرائز کرے گا۔

شہد اور دودھ کا استعمال :
شہد میں دودھ ملا کر چہرے پر لگانے سے آپ کو وہ نکھار حاصل ہو گا جس کی آپ کو ہمیشہ سے خواہش رہی ہے ۔ دودھ جلد سے ایکنی کا خاتمہ کرتا ہے اور جلد کو نرم و ملائم بھی بناتا ہے، جب کہ شہد اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کا حامل ہے۔ اس سے جلد کے کئی قسم کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button