urdu maloomatاسلاموظائف

قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس شخص سے اپنا عذاب ہٹا دے گا

جو چُپ رہتا ہے وہ ہمیشہ نجات پا لیتا ہے ۔ آپ کو اکثر بول کر تو پچھتانا ہی پڑا ہو گا لیکن آپ نے خاموش رَہ کر بہت کم شرمندگی اُٹھائی ہوگی ۔ ’’ترمذی شریف کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم، خاتم النبیین ، راحتہ العاشقین حضرت محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ واصحابہ وبارک وَسَلَّمَ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ: مَنْ صَمَتَ نَجَا ۔ یعنی ’’جو انسان چُپ رہا اُس نے نَجات پا لی ۔ ‘‘ (ترمذی ج۴ص۲۲۵حدیث ۲۵۰۹)

اور یہ محاوَرہ بھی بہت خوب ہے جو آپ نے کئی بار سنا ہوگا ایک چپ ہزار سکھ ۔ حضرتِ سیِّدُناشیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ تعالیٰ عَلَیْہِ’’بوستانِ سَعدی‘‘ میں فرماتے ہیں کہ : ایک بہت ہی نیک شخص اپنے ذاتی دشمنوں کا ذِکر بھی کبھی بُرائی سے نہیں کرتا تھا ۔ جب بھی اس کے دشمنوں میں سے کسی کی بات چھڑتی تو اُس شخص کی زبان سے ہمیشہ ان کے لیے اچھی بات ہی نکلتی تھی ۔ مرنے کے بعد اُس شخص کو کسی نے خواب میں دیکھا تو اس سے سوال کیا:مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ رب العالمین نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے ؟ تو اس نے کہا: ’’دنیا میں ہمیشہ میری یہی کوشش رہتی تھی کہ میری زبان سے کسی کے بارے میں بھی کوئی بُری بات نہ نکلے ، منکر نکیر نے بھی قبر میں مجھ سے کسی قسم کا کوئی سخت سوال نہیں کیا اور یوں میرا معاملہ خوب اچھا رہا ہے ۔ ‘‘ (بوستان سعدی ص۱۴۹ ملخّصاً)

بخاری شریف میں روایت ہے کہ، ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ واصحابہ وبارک وَسَلَّمَ میں عرض کی: یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ واصحابہ وبارک وَسَلَّمَ! مجھے کوئی وصیت فرما دیں ۔ تو نبی کریم، خاتم النبیین ،راحۃ العاشقین ،مراد المشتاقین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اس سے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ۔ لَا تَغْضَبْ یعنی ’’غصہ مت کرو ۔ ‘‘ اس شخص نے باربار یہی سوال دہرایا، تو اسے بار بار ایک جواب ملا ۔ کہ’’ غصہ مت کیا کرو ۔ ‘‘ (بخاری ج۴ ص۱۳۱ حدیث ۶۱۱۶)
شرحِ حدیث:حضرتِ علّامہ خَطّابی رَحْمَۃُ اللہِ تعالیٰ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : لَا تَغْضَبْ یعنی ’’غصّہ مت کیا کرو‘‘کے معنٰی یہ ہیں کہ غصے کے اَسباب (یعنی جن چیزوں سے جلدی غصّہ آ جاتا ہے اُن) سے بچو یا تم وہ کام ہی نہ کرو جس کام کا کرنا تمہیں غصّہ دلاتا ہے ۔ (اعلام الحدیث للخطابی ج۳ص۲۱۹۷)
اللہ قیامت کے دن ایسے شخص سے اپنا عذاب روک لے گا ۔
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ واصحابہ وبارک وَسَلَّمَ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ : جو شخص اپنے غصے کو روکے گا، اللہ رب العالمین قیامت کے دن اُس سے اپنا عذاب روک دے گا ۔ (شعب الایمان ج۶ص۳۱۵حدیث۸۳۱۱)

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button