urdu maloomatاسلام

احادیث کی روشنی میں یوم عاشورہ کی فضیلت اور عظمت

نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے یوم عاشورہ کے دن کی متعدد فضیلتیں وارد ہیں۔

(۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : ما رأیتُ النبیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَتَحَرّیٰ صیامَ یومٍ فضَّلَہ علی غیرِہ الّا ھذا الیومَ یومَ عاشوراءَ وھذا الشھرَ یعنی شھرَ رَمَضَان (بخاری شریف۱/۲۶۸، مسلم شریف ۱/۳۶۰،۳۶۱)

میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ نہیں کرتے دیکھا، سوائے یومِ عاشوراء کے اور سوائے ماہِ رمضان المبارک کے۔

مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے طرزِ عمل سے یہی سمجھا کہ نفل روزوں میں جس قدر آپ اہتمام یومِ عاشورہ کے روزے کا کرتے تھے، اتنا کسی دوسرے نفلی روزہ کا نہیں کرتے تھے۔

(۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا ارشاد مبارک ہے۔ : لَیْسَ لِیَوْمٍ فَضْلٌ عَلٰی یومٍ فِي الصِّیَامِ الاَّ شَھْرَ رَمَضَانَ وَیَوْمَ عَاشُوْرَاءَ․ (رواہ الطبرانی والبیہقی، الترغیب والترہیب ۲,۱۱۵)

روزہ کے سلسلے میں کسی بھی دن کو کسی دن پر کوئی فضیلت حاصل نہیں؛ مگر یوم عاشورہ اور ماہِ رمضان المبارک کو (کہ ان کو دوسرے دنوں پر فضیلت حاصل ہے)۔

(۳) عن أبی قتادة رضی اللہ عنہ قال قال رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: انّي أحْتَسِبُ عَلَی اللہِ أنْ یُکفِّر السنةَ التي قَبْلَہ․ (مسلم شریف ۱,۳۶۷، ابن ماجہ ۱۲۵)

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ ( کذا فی الترغیب۲/۱۱۵)

ان احادیث شریف سے یہ بات ظاہر ہے کہ یوم عاشوراء بہت ہی عظمت اور تقدس کا حامل ہے؛ لہٰذا ہمیں اس دن کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button