urdu maloomatاسلام

ایک بدو جب حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی قبر انور پر حاضر ہوا تو

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی قبرِ انور کے پاس ایک بدو حاضر ہوا۔حضرت اصمعی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بدو نبی کریم خاتم النبیین مراد المشتاقین راحتہ العاشقین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی قبر انور کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ۔

وہ بدو قبر انور کے پاس کھڑے ہو کر یہ عرض کرنے لگا کہ یا اللہ عزوجل یہ آپ کے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہیں اور میں تیرا غلام ہوں اور بے شک شیطان تیرا دشمن ہے ۔ اے اللہ اگر تو میری مغفرت فرما دے گا تو تیرے محبوب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا دل خوش ہو جائے گا اور تیرا غلام کامیاب ہو جائے اور تیرے دشمن کا دل غمگین ہو جائے گا۔

اور اے اللہ عزوجل اگر تو میری مغفرت نہ کرے گا تو تیرے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو رنج ہو گا اور تیرا دشمن خوش ہو جائے گا اور تیرہ بندہ ہلاک ہو جائے گا ۔ وہ عرض کرنے لگا کہ یا اللہ تبارک و تعالیٰ عرب کے کریم لوگوں کا یہ دستور رہا ہے کہ جب بھی ان میں سے کوئی بڑا سردار مر جاتا ہے تو عرب کے کریم لوگ اس کی قبر پر غلاموں کو آزاد کیا کرتے ہیں ۔ اے اللہ عزوجل یہ پاک ہستی بے شک سارے جہانوں کی سردار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہیں ۔

اے اللہ عزوجل تو ان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی قبر انور پر مجھے آگ سے آزادی عطا کر دے ۔ اصمعی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بدو سے کہا کہ اے عربی شخص اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیرے اس بہترین سوال پر (ان شاء اللہ) تیری ضرور بخشش کر دی ہو گی ۔ (فضائل حج، ص ۱۲۷)

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button